بنگلورو،14؍مئی(ایس او نیوز) سابق وزیر اعلیٰ سدرامیا کے دوبارہ وزیر اعلیٰ بننے کے متعلق بیانوں پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ریاستی جے ڈی ایس صدر ایچ وشواناتھ کی طرف سے سدرامیا پر کی گئی نکتہ چینی ریاست میں کانگریس جے ڈی ایس اتحاد میں غیر معمولی دراڑ کا سبب بنی ہوئی ہے۔ وشواناتھ نے اپنے بیان میں دوبارہ وزیراعلیٰ بننے سدرامیا کے حامیوں کی خواہش پر طنز کرتے ہوئے کہاتھاکہ پانچ سال اقتدار پر رہ کر ریاست میں سدرامیا نے ترقی کے لئے کچھ بھی نہیں کیا تو اب وزیراعلیٰ بن کر کیا کریں گے۔ وشواناتھ کا یہ بیان کانگریس کے حلقوں میں شدید غم وغصے کا سبب بنا ہوا ہے۔ اس بیان کی وجہ سے دونوں پارٹیوں کے درمیان اختلافات عروج پر پہنچ چکے ہیں۔آج خود سدرامیا نے وشواناتھ کے بیان پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ مخلوط حکومت کا حصہ ہونے کی مجبوری کے سبب وہ خاموش ہیں، وشواناتھ کے بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ ہمیشہ متنازعہ بیانات دے کر شہرت بٹور نے والے وشواناتھ کے تازہ بیان پر وہ مخلوط حکومت کی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں اٹھائیں گے اور جے ڈی ایس قیادت سے گزارش کریں گے کہ ان پر لگام کسی جائے۔ انہوںنے کہاکہ اس سے پہلے جی ٹی دیوے گوڈا نے مخلوط حکومت کو نقصان پہنچانے کا بیان دیاہے اب وشواناتھ دے رہے ہیں ، پتہ نہیں آئندہ کس کی طرف سے کونسا بیان آنے والا ہے۔ بہتر ہے کہ جے ڈی ایس کے قائدین اس طرح کے بیانات پر توجہ دیں ۔ انہوںنے کہا کہ جے ڈی ایس کے بعض لیڈروں کی طرف سے بارہا غیر ذمہ دارانہ بیانات دئے جارہے ہیں۔ اور وہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ لیکن جے ڈی ایس قیادت کو بھی چاہئے کہ ان لوگوں کو تاکید کریں کہ مخلوط حکومت کا حصہ ہونے کی ذمہ داری کا احساس کریں۔ اس دوران جے ڈی ایس کے رکن راجیہ سبھا کپیندرا ریڈی نے وشواناتھ کے بیان کی حمایت کرتے ہوئے کہاکہ کانگریس کو اگر مخلوط حکومت کا حصہ بننا گوارا نہیں ہے تو پھر جے ڈی ایس کو بھی اپنے راستے تلاش کرنا آتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمارسوامی دن رات ریاست کی ترقی کے لئے اپنی صحت کی پرواہ کئے بغیر متحرک ہیں، لیکن کانگریس کے کسی رہنما کو اس کی پرواہ نہیں ہے، ہمیشہ وزیراعلیٰ کو ہراساں کرنے کے لئے ایک نئے تجربے کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کمار سوامی نے انفرادی توجہ دے کر 40ہزار کروڑ روپیوں کے زرعی قرضے معاف کئے ہیں۔ ریاست کی مالی پوزیشن کو مستحکم کیا ہے، اس کے باوجود بھی بعض کانگریس لیڈروں کی طرف سے مخلوط حکومت کو کمزور کرنے کے متعلق بارہا دئے جانے والے بیانات بند کئے جانے چاہیں۔ کپیندرا ریڈی نے کہاکہ اقتدار کے لئے جے ڈی ایس کانگریس کے پاس نہیں گئی تھی، 80سیٹوں پر کامیاب ہونے کے بعد بھی غلام نبی آزاد کی قیادت میں کانگریس قائدین جے ڈی ایس کے درپر آئے تھے، اور انہوںنے کمار سوامی کو وزیراعلیٰ بنانے کی پیش کش کی تھی، کپیندرا ریڈی نے کہاکہ اگر کانگریس کے چند قائدین اپنے بیان بازی پر قابو پالیں تو جے ڈی ایس کانگریس اتحاد کوپانچ سال ہی نہیں بلکہ دس پندرہ سال تک آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔ اس دوران وزیر برائے اعلیٰ تعلیمات جی ٹی دیوے گوڈا نے سدرامیا کے متعلق وشواناتھ کے بیان پر تبصرے سے گریز کرتے ہوئے کہاکہ سدرامیا کا ذاتی طور پر وہ بہت احترام کرتے ہیں۔ سیاسی رقابت اپنی جگہ لیکن وشواناتھ کے بیان سے سدرامیا نے انہیں جوڑنے کی جو کوشش کی ہے وہ درست نہیں ہے۔